طلوع ادب کا قیام 19 ستمبر 1998 ء کو عمل میں لایا گیا، اس کا بنیادی مقصد آزاد کشمیر میں بالعموم اور باغ میں بالخصوص فروغ زبان و ادب کے حوالے سے ایسی مربوط حکمت عملی اور پلیٹ فارم کا قیام تھا جہاں ادب کی پرداخت و ترویج ہو سکے ۔پروفیسر شفیق راجا ، پروفیسر دلشاد ارِیب، پروین رمضان، اور غلام عباس بانڈے اس کے بانیوں میں سے ہیں۔ اس کی اولین صدر نشیں پروین رمضان اور معتمد غلام عباس بانڈے تھے ۔ 23 جون 2000ءکو پروفیسر شفیق راجا کو تنظیم کا نیا صدر نشیں اور پروفیسر دلشاد ارِیب کو معتمد منتخب کیا گیا۔ 2001ء میں طلوع ادب کے ادبی جریدے ْسہ ماہی مطلع کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا اور پروفیسر دلشاد ارِیب کو اس کی ادارت تفویض ہوئی جبکہ تنظیمی ذمہ داریاں پروفیسر شفیق راجا بطور صدر نشیں اور سید شہباز گردیزی بطور معتمد طلوع ادب دی گئیں جو بلا مقابلہ آج تک بطور احسن سرا نجام دے رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ طلوع پبلی کیشنز کے ذریعے یہاں کے تخلیق کاروں کی تخلیقات کو تسلسل سے شائع کرایا جاتا ہے جبکہ طلوع ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتما م سماجی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جاتا ہے۔
طلوع ادب نے اپنے قیام سے لے کر آج تک گزشتہ 27سالوں میں زبان و ادب کے حوالے سے ریاست بھر میں دیگر علاقائی ادبی تنظیموں کے ساتھ باہمی روابط کے ذریعے فروغ زبان و ادب کی کوششوں اور کاوشوں کو پروان چڑھایا۔ مختلف اضلاع اور پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والی ادبی تقریبات، سیمینارز،ادبی کانفرنسوں اور مشاعروں میں دونوں اطراف سے شعرا اور ادباء کی آمد، شرکت اور ان میں خصوصی دلچسپی سے فروغ زبان و ادب اور ثقافت کی کوششوں کو بہت فروغ ملا ہے ۔ضلع باغ کے ساتھ ساتھ مختلف دیگر علاقوں میں اس کی علاقائی شاخیں فروغ ادب کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طلوع ادب آج ریاست بھر کی تمام ادبی تنظیموں میں اپنے ادبی ، ثقافتی اور تخلیقی کام کے اعتبار سے سر فہرست ہے ۔ صرف پچھلے دو عشروں میں اس چھوٹے سے خطے سے چھپنے والی کتابوں کی تعداد درجنوں سے بڑھ کر سینکڑوں میں جا رہی ہے ۔ یہاں کے ادباء کی تخلیقات پر مختلف جامعات کی طرف سے ہونے والا تحقیقی کام اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہاں کے تخلیق کار اور قلم کار پاکستان کے بڑے شہروں میں تخلیق ہونے والے ادب سے کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔
طلوع ادب کے قیام سے لے کر آج تک اس کی ہونے والی پندرہ روزہ تنقیدی نشستیں تسلسل سے جاری ہیں اور اس تسلسل کی 1125 ویں نشست کا انعقاد کیا گیا ۔ان نشستوں کے تنوع اور کثیر الجہتی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ طلوع ادب کس طرح اُردو اور دیگر علاقائی زبانوں کے فروغ ، ادب و ثقافت اور فنون لطیفہ کی ترقی کے لیے کوشاں ہے ۔طلوع ادب کا سہ ماہی جریدہ مطلع بھی تسلسل سے شائع ہوتا ہے جبکہ تنظیم کے 27 سال پورے ہونے پر سلور جوبلی تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ اس موقع پر تخلیق کاروں کی تخلیقات اور فن پاروں کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیےمطلع کے خصوصی شمارہ سلور جوبلی نمبر اور talooeadab.com کے نام سے ویب سائٹ اور سوشل میڈیا چینلزکا باقاعدہ آغازکیا جارہا ہے۔



