اصل نام: راجا محمد اسلم
ولدیت: گلزار خان
تاریخ پیدائش: 13 اکتوبر 1948 ء گاؤں پتراٹہ کفل گڑھ باغ
تعلیم: لاء گریجویٹ
تصانیف: کونپل کا بدن (شاعری)، تاریخ نارمہ راجپوت
زیر طبع: گل ِ نغمہ (شاعری )،آب ریزے (شاعری)،بارشوں کے دیس میں (سفر نامہ)
ادبی حلقوں سے وابستگی: سرپرست اعلیٰ طلوع ادب آزاد کشمیر، بانی ادب آموز پاکستان،
اعزازات: سند اعتراف کلچر اکیڈمی آزاد جموں کشمیر، سونئیر ادبی اکیڈمی راولاکوٹ پونچھ، پہلاانعام ، شریف اکیڈمی لٹریری شیلڈ لاہور، قلم کارواں ایوارڈ:2014ء نارمہ راجپوت
تاریخ وفات: 13فروری 2019ء
٭٭٭٭٭٭
ہم تو چلتے رہے دیوار کے سائے سائے
دھوپ اتنی تھی کہ کچھ کام نہ آئے سائے
روشنی مانگتے پھرتے تھے کہ سورج کے طفیل
مسکراتے ہوئے آنگن میں در آئے سائے
قدو قامت تو جو پہلے تھا سو اب بھی ہے مگر
شام نے ڈھلتے ہوئے قدسے بڑھائے سائے
میرے دل میں تو وہ قندیل جلا کر لوٹا
اپنے دامن میں مگر اس نے سجائے سائے
کون جانے کہ جب آئیں تری روشن یادیں
کس طرح میں نے اجالوں میں بسائے سائے
اس نے میرے لئے پھیلائیں ردائیں روشن
اور اپنے لئے رستے میں بچھائے سائے
مہربانی ہے یہ اس کی، یہ کرم اس کا ہے
میں نے تپتے ہوئے صحراؤں میں پائے سائے
راہ میں کوئی شجر، کوئی بھی دیوار نہ تھی
ہر کوئی کہتا ہوا جاتا تھا ہائے سائے
٭٭٭٭٭٭٭
جس شخص کا مکان سدا آندھیوں میں تھا
وہ اپنا گھر بسا کے بھی ویرانیوں میں تھا
جب تک میں اپنی ذات سے واقف ہوا نہ تھا
میرا وجود ٹھہرے ہوئے پانیوں میں تھا
ویران جب نہیں تھیں مرے دِل کی بستیاں
ہر ایک کا مکان مری آبادیوں میں تھا
صحرا کی زندگی مجھے کیسے قبول ہو
دریا تھا مہربان تو گھر وادیوں میں تھا
پھولوں کے موسموں کی یہ تاثیر تھی‘ مجھے
احساس کامیابی کا ناکامیوں میں تھا
جب میں تمہاری یاد سے غافل ہوا نہ تھا
جو شخص معتبر تھا‘ مرے حامیوں میں تھا
آسائشوں میں بھی نہیں اس کا بدل کوئی
جو اعتماد بے سروسامانیوں میں تھا
٭٭٭٭
چرچا رہا ہے برسوں یادوں کی جس کرن کا
اک آنچ تھی لبوں کی‘ شعلہ تھا اک بدن کا
میں پیار بانٹتا ہوں مجھ کو نہ نفرتیں دو
خوشبوہے میری دولت میں پھول ہوں چمن کا
اس کا ہر ایک ذرّہ ٹکڑا ہے میرے دل کا
میں درد بانٹتا ہوں سہمے ہوئے وطن کا
مجھ کو عزیز تر ہیں خواب و خیال اپنے
شیدائی ہوں ازل سے میں اپنے ہی سخن کا
رنگوں میں میری رنگت‘ خوشبو سے میری نسبت
میں باغ پالتا ہوں باسی ہوں میں عدن کا
یہ لفظ لفظ چن کر سوچوں کے ساتھ بننا
میرا یہی تو فن ہے‘ جولاہا ہوں سخن کا
اک آن بھی ہے میری اک شان بھی ہے میری
چلتا ہوں اپنی دھن میں‘ راجاؔ ہوں اپنے من کا
٭٭٭٭٭٭
آنکھوں کے آگے درد کا صحرا بکھر گیا
دھرتی ابھی تھی پیاسی کہ دریا اتر گیا
تاریکیوں کے زہر میں بجھ بجھ کے ایک شخض
اک روز روشنی کی تمنا میں مر گیا
جس نے مری نظر میں ستارے پرو دیے
اک خواب میری آنکھوں میں ایسا ٹھہر گیا
جس سے ہمیں بہار کی رنگینیاں ملیں
رنگوں کو‘ حوشبوؤں کو فضاؤں میں بھر گیا
ایسی بکھیر دی ہے نوازش پھوار کی
آیا شگفتہ دل تھا لئے چشمِ تر گیا
بوڑھا درخت اپنے ہی قدموں میں گر پڑا
پھولوں کو اپنے سائے سے محروم کر گیا
اتنی طویل زندگی انعام کی طرح
وہ شخص بانٹتا ہوا ہم سے بچھڑ گیا





