نام : راجامحمد شفیق خان
ولدیت راجہ صحبت خان
سکونت: محلہ خواجگان باغ آزاد کشمیر
تاریخ پیدائش: 4فروری 1952ء
تعلیم: ایم اے اردو
شغل ہائے روزگار: پرنسپل (ر)
تصنیف: ”میں حرف حرف سمیٹوں“ (شاعری)، کدل(شاعری)، خواب کون دیکھے گا(شاعری)، نعت کا سفر، عشق دم جبرائیل، دخل در معقولات، اُجلی دھرتی سُچے لوگ۔
ادبی تنظیموں سے وابستگی: صدر نشیں طلوع ادب، پہاڑی ادبی سنگت باغ کے ضلعی صدر
رابطہ نمبر: 9884547 0344
پتہ: الشفا ہسپتال زمان چوک باغ آزاد کشمیر
نمائندہ شعر:
شاید تری تلاش میں گزرے تمام عمر
شاید مری تلاش کا مقصد بھی ہے یہی
دیکھنے دیکھنے میں رات تمام
ہم نہ کر پائے اپنی بات تمام
ریت مٹھی میں لے کے سوچتے ہیں
تھام رکھی ہے کائنات تمام
الف لیلیٰ سی زندگی کی کتاب
داستاں ناتمام رات تمام
آخر کار توڑنا ہوں گے
اپنے اندر کے سومنات تمام
فاصلے بھی سمٹ نہیں پائے
اور گزر بھی گئی حیات تمام
شام ہوتے ہی جل اٹھے گی شمع
اور جلتی رہے گی رات تمام
مسند شاہ خالی ہوتی ہے
اس کے پیادے ہوئے ہیں مات تمام
یہ خبر عام شش جہات میں ہے
عیشِ منزل نہیں حیات تمام
میں تیرا نام لکھوں بار بار کاغذ پر
میں وِرد دل میں کروں اور شمار کاغذ پر
کچھ ایسی بات تو ہے ورنہ اس طرح لوگو
نظر نہ آتا کبھی اتنا پیار کاغذ پر
خیال رکھنا کہ پھیلے نہ لفظ کا کاجل
نکل نہ جائے کہیں سب غبار کاغذ پر
میں حرف حرف سمیٹوں مگر نجانے کیوں
بکھرتے جاتے ہیں اس دل کے تار کاغذ پر
میں ہر برہنہ شجر پر کھِلاؤں پیار کے پھول
خزاں کی رُت میں بکھیروں بہار کاغذ پر
ترے حصار سے نکلوں تو سوچ پاؤں گا
میں اپنی ذات کا کھینچوں حصار کاغذ پر
کہاں یہ تاب کہ تیرے سوا کچھ اور دِکھے
بس اتنا وقت کہ لکھوں ”خمار“ کاغذ پر
تمام عمر رہا دوستوں کے جھرمٹ میں
تمام عمر رہے دوست یار کاغذ پر
شفیق وقت کے طوفاں میں ناؤ کاغذ کی
تو پار جائے گا ہو کر سوار کاغذ پر؟





