ولدیت: خواجہ طالب حسین وانی
تاریخ پیدائش: سری نگر تحصیل بڈ گام، ولادت بمقام منڈی پونچھ
تعلیم: ایم اے۔ بی ایڈ
شغل ہائے روزگار: تعلیم و تدریس، تحقیق و تنصیف
تصانیف: سید احمد رضوی فاضل مشرقیات ممتاز عالم دین وابستہ رسالہ برہان، پیام اسلام لکھنو سرفراز لکھنو، قرآن اور غزالی کا نظریہ تعلیم، ترجمہ دیوان شمس و سوانح شمس،شعلہ ملتان،شہر آشوب، ملفوظات وانی، حلیتہ المتین سوانح استاد محترم، نکات در نکات، تاریخ خواجگان ترجمہ کلیات شمس کلید ابیات شمس جلد اول جلد دوم، پرتو کشمیر، کشمیری گرائمر، ترجمہ مرغوب القلوب، مرغ عیار
زیر طبع: ترجمہ کشف اسراز، کلید ابیات جلد اول دوم کلیات شمس،ترجمہ مرغوب القلوب، پرتو کشمیر، کشمیری گرائمر، موعودنامہ ترجمہ الف بائی،مہدیت تحقیقی نظر کشمیر میں مرثیہ پر انتخاب، دیوان شمس شب شہود، ترجمہ مرغوب القلوب، تاریخ خواجگان
ادبی حلقوں سے وابستگی: خانہ فرہنگ ایران، پیغام آشنارسالہ اسلام آباد:
خط وکتابت کا پتہ: غلام حسین وانی امامیہ کالونی باغ آزاد کشمیر
رابطہ نمبر: 05823442473
نمائندہ شعر:
دیکھے ہیں ہم نے زیروزبر سینکڑوں عالم
ہر شام اپنی صبح کی ہے شامِ مکافات
نہ جانے توڑ لے کب شاخ سے گلچیں تجھے اے گل
نم باراں و شبنم سے ہمیشہ باوضو رہنا
نہ کرنا ترک آداب تلاش یار گلشن میں
بدل کر بھیس پروانے کا محوِ جستجو رہنا
کشادہ ظرف رکھنا بہر صہبائے غمِ ہستی
اٹھانا ناز مینا کے پسِ جام و سبو رکھنا
نہ پورا ہو اگر حرفِ تمنا وقتِ بے تابی
نہ دل برداشتہ ہو کے کبھی بے آبرو رہنا
جو فرطِ شوق تڑپائے کبھی صحرائے نیش میں
سبق لینا کلیم طور سے پھر دُوبدو رہنا
کبھی جو چاک دامانی تجھے مجبور کر ڈالے
مقدر سے فقط منت کشِ تارِ رفو رہنا
تجھے پالا ہے قدرت نے بصد اندازِ یکتائی
نہ پابند تمیز نسل و فرقِ رنگ و بو رہنا
یزیدِ عصر آ جائے سرِ مقتل مقابل میں
کٹانا سر سرِ میداں ابد تک سرخرو رہنا
خونِ دل مرہم جراحت چارہ گر کیونکر ہوا
اشکِ خوں تسکین خاطر نوحہ گر کیونکر ہوا
عشق پابندِ حصارِ پید و ناپیدا نہیں
محوِ حیرت ہوں یہ پیکر اس کا گھر کیونکر ہوا
رونقِ بزمِ جہاں تھا قیس جب مجنوں نہ تھا
صدرِ بزمِ عشق ٹھہرا در بدر کیونکر ہوا
کس نے سننا تھی فغانِ بے نوا سحر خموش
دل شکستہ مطمئن اے شیشہ گر کیونکر ہوا
بے بصر ہدفِ ملامت کل جو تھا اے محتسب
دفعتہ دانشوروں میں دیدہ ور کیونکر ہوا
جو رئیس شہرِ غربت کل تھا پامالِ نظر
شہر یارِ عصر کے ہاں معتبر کیونکر ہوا
خار تھا جو بے حجابی سے چمن میں اے نسیم
موسمِ گل میں چٹک کر غنچہ تر کیونکر ہوا
یہ شہیدانِ وفا کی رہ گذر ہے کوئے عشق
اس طرف اے بے وفا تیرا گذر کیونکر ہوا
ایک چشمک دل ہلا دیتی ہے دل ہوسل نہ ہو
لن ترانی طور پر دیکھا! اثر کیونکر ہوا
ایک سنگریزہ ہے جوہر شب چراغ آبدار
پتھروں میں خوب تر یہ اسقدر کیونکر ہوا





