اصل نام: راجہ محمد یعقوب شاہق
ولدیت: راجہ علی اکبر خان
تاریخ پیدائش: 9 نومبر 1942 ء
روزگار: پرنسپل (ر)
تصانیف: فیض الغنی، ماہ صیام نیکیوں کا موسم بہار، تحریک آزادی کشمیر میں اساتذہ کا کردار، عمرِ عزیز رفت،بہار ہو کہ خزاں،
زیر طبع مضراب (شعری مجموعہ)
ادبی جریدوں اور اخبارات سے وابستگی: مجلہ رہبر، چنار، قندیل، نوائے وقت، جنگ، اساس، سیارہ، ماہنامہ افکار، تہذیب، خبریں، اوصاف
ای میل: myshaiq@gmail.com
نمائندہ شعر:
بوئے گل دیتی ہے شاہق ؔ پھر بہاروں کا پیام
دیکھتی ہے چشمِ دوراں انقلابِ زندگی
اٹھ کہ پھر دیکھیں طلوعِ آفتابِ زندگی
آ کہ پھر سمجھیں مضامینِ کتابِ زندگی
آسمانوں کی جبیں پر کھیلتی ہیں بجلیاں
عارضِ گیتی پہ رقصاں ہے شبابِ زندگی
چھن رہا ہے نور سا دیکھو سرِ اوجِ فلک
ہر کلی ہر پھول میں ہے آب و تابِ زندگی
دامنِ صد چاک کی باتیں نہ کر اے ہم نشیں
مضمحل ہے تیرے نغموں سے ربابِ زندگی
عشق کی رسوائیوں کا تذکرہ بے سود ہے
کب تلک دیکھیں گے ہم موجِ سرابِ زندگی
تابشِ رخسار کی رعنائیوں میں کھو نہ جا
زلفِ برہم پہ نہ کر قرباں حبابِ زندگی
بوئے گل دیتی ہے شاہق ؔ پھر بہاروں کا پیام
دیکھتی ہے چشمِ دوراں انقلابِ زندگی
شعلہ خُو جھونکوں میں ہے محفل ترے جانے کے بعد
کون کھولے عقدہء مشکل ترے جانے کے بعد
ہائے بزمِ رفتہ کی رعنائیوں کو کیا ہوا
بجھ گیا جیسے چراغِ دل ترے جانے کے بعد
سونی سونی بستیاں ہیں، دل گرفتہ غم زدہ
ہے تلاشِ عشق لاحاصل ترے جانے کے بعد
میکدہ ویران ہے آبادیاں مغموم ہیں
کوئی روتا ہے شکستہ دل ترے جانے کے بعد
کتنا سادہ، کتنا دلکش تھا ترا سفرِ حیات
ہے مسافر تشنہئ منزل ترے جانے کے بعد
اب نہیں دلکش بہارِ عارضِ گل کی دھنک
جلوہِ فطرت نہیں کامل ترے جانے کے بعد
شاہقؔ اپنی انجمن بے کیف ہے، بے نور ہے
اب کہاں ہے جوہرِ قابل ترے جانے کے بعد





