اصل نام: دلشاد احمد
پیدائش: 06 اگست 1973 ء
تعلیم: ایم فل
شغل ہائے روزگار: اسسٹنٹ پروفیسر، ہائر ایجوکیشن (کالجز)آزاد کشمیر
ادبی حلقوں سے وابستگی: نائب صدر طلوع ادب، مدیر، سہ ماہی مطلع،
تصانیف: بساطِ جاں (شاعری) ،تعارفِ قرآن وحدیث(تحقیق)نیوگنی سے کشمیر تک (تاریخ)، ورق ریزے (انشائیہ)، اُجالوں کا سراغ (خاکے)
زیر طبع: وجدان، صنف آہن مغازی رسول کے آئینے میں، نظام قضا ماضی، حال اور مستقبل، مقالات دلشاد ارِیب، اربعین ارِیب
رابطہ نمبر: 0333-5736140
ای میل: areeb929@gmail.com
نمائندہ شعر:
اس زندگی کے سارے فسانے میں کچھ نہیں
سچ ہے تمہارے بعد زمانے میں کچھ نہیں
٭٭٭٭٭
ہم خدا کی بستیوں میں حاسدوں کے درمیاں
کس طرح سے جی سکیں گے سازشوں کے درمیاں
جس طرح میرِ سپہ ہو لشکروں کے درمیاں
اس طرح سے آ گئے ہم قربتوں کے درمیاں
مٹ نہ جائے نفرتوں کے عہد میں میرا وجود
بٹ نہ جائے گھر مرا بھی دو گھروں کے درمیاں
کیا کہوں انکار کی تکرار بھی اقرار ہے
اثبات ہے انکار بھی دو منفیوں کے درمیاں
اس طرح کی بے حسی بھی زلزلے میں دیکھ لی
بھائی سارے بٹ گئے ہیں معاوضوں کے درمیاں
٭٭٭٭٭٭
زندگی کی راہوں میں آگہی کے بارے میں
آدمی سمجھتا ہے آدمی کے بارے میں
آب و ناں سے بھی زیادہ مسئلے ہیں لوگوں کے
پھر وہ کیوں پریشاں ہیں مفلسی کے بارے میں
ایک گھر میں رہ کے بھی ایک ہو نہ پائے ہم
اور کیا بتائیں ہم بے بسی کے بارے میں
اک کتھائے غم ہے یا اک خوشی کا سرگم ہے
آپ کی کیا رائے ہے زندگی کے بارے میں
تشنگی کے بارے میں تشنہ کام جانے ہے
پانیوں سے کیا پوچھیں تشنگی کے بارے میں
کب ہوا چراغوں کی اہمیت سمجھتی ہے
وہ تو بس سمجھتی ہے تیرگی کے بارے میں
٭٭٭٭
تمھارے خال و خد اب بھی اسی قریے میں رہتے ہیں
چمن میں رنگ و خوشبو بھی ترے حلیے میں رہتے ہیں
تمھاری یاد کی پونجی کوئی نہ چھین لے ان سے
تمھارے ہجر کے جویا اسی خطرے میں رہتے ہیں
چراغِ شب جلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی
تمھاری یاد کے جگنومرے کمرے میں رہتے ہیں
جو دل کے پاس رہتے ہیں وہ ہم سے دور بستے ہیں
تعلق ہی نہیں جن سے وہ ہمسائے میں رہتے ہیں
تمھارا ہجر اوڑھا ہے بچھڑ کے تم گئے جب سے
انہی لمحوں کو گنتے ہیں اسی حلیے میں رہتے ہیں





