اصل نام: محمد زبیر حسن
ولدیت: حسن محمد
تاریخ پیدائش: 9 جون 1971 ء رہاڑہ راولاکوٹ
روزگار: پرنسپل پرل ویلی پوسٹ گریجویٹ کالج باغ آزاد کشمیر، انچارج یف ایم105.8 ریڈیو
زیر طبع: جستجو (اردو شعری مجموعہ)، مٹھے بول (پہاڑی شعری مجموعہ)
ادبی حلقوں سے وابستگی: سینئر نائب صدر طلوع ادب آزاد کشمیر، ممبر حلقہ ارباب ذوق
اعزازات: شیلڈ ایف ایم 99، گلستان ادب راولاکوٹ کارکردگی ایوارڈ
خط کتابت کا پتہ: پرل ویلی پوسٹ گریجویٹ کالج نزد مین پل باغ آزاد کشمیر
ای میل: pvpgc555@gmail.com
رابطہ نمبر: 0344-5199200
نمائندہ شعر:
ایک لمحہ بھی دسترس میں نہیں
میں نے صدیوں پہ راج کرنا تھا
٭٭٭٭
ہر سمت ہے پھیلی مرے سرکار کی خوشبو
پھولوں نے چرا لی درو دیوار کی خوشبو
اے نورِ مجسم کبھی خوابوں میں اتر آ
بانٹوں میں جہاں کو ترے دیدار کی خوشبو
رہتے ہیں معطریہ زمیں اور فلک بھی
آتی ہے مدینے سے جو سرکار کی خوشبو
کیا ہو گی خدا نے بھی قسم کھائی ہے جس کی
اس ذلف کی اس چہرہ انوار کی خوشبو
یہ باغ ِجہاں چاروں ہی یاروں نے سجایا
ہر پھول سے آتی ہے ہر اک یار کی خوشبو
ہو جائیں گی تحلیل سبھی خوشبوئیں لیکن
باقی جو رہے گی ہے ترے پیار کی خوشبو
٭٭٭٭٭٭
سب کے غم کا علاج کرنا تھا
ہم نے بہتر سماج کرنا تھا
اُس جگہ تھک کے آن بیٹھے ہیں
جس جگہ احتجاج کرنا تھا
کیا کہ مدت بڑھا دی خود ہم نے
جب کہ تاراج تاج کرنا تھا
ایک لمحہ بھی دسترس میں نہیں
میں نے صدیوں پہ راج کرنا تھا
کھیت کے ساتھ بہہ گیا خود بھی
جس نے پیدا اناج کرنا تھا
٭٭٭٭٭٭
بس یہی سائبان لازم ہے
سر پہ اک آسمان لازم ہے
پھر سے تجدید ہو محبت کی
اک نئی داستان لازم ہے
خود کلامی میں عمر کاٹی ہے
اب کوئی راز دان لازم ہے
دور کر دیں نہ قُربتیں ہم کو
فاصلہ درمیان لازم ہے
گر ہو مقصود آسماں پہ کمند
اک مسلسل اُڑان لازم ہے
عین ممکن ہے لوٹ کر آؤں
مجھ کو اب بھی گمان لازم ہے
جانتا ہوں جلایا جاؤں گا
عشق میں امتحان لازم ہے





