اصل نا م: سیّد شہبا زعلی شا ہ
تاریخ پید ائش: ٹنڈو میرمحمد حید ر آ با د(سند ھ) 23نو مبر1976ء (آبائی علاقہ کہنہ موہری باغ)
ولدیت: سیّد ضمیرحسین گر دیز ی (سیا سی و سما جی رہنما)
تصانیف: حقیقتوں کے عذاب ، خواب کو ن دیکھے گا۔ (شاعری) جمہو ریت کی دیوی (کالم)، متاعِ حسن (تاریخ کشمیر)، اجلی مٹی (پونچھ کے غزل گو شعر اء کا انتخاب)، ضمیر باضمیر(سوانح)، حرف گریہ (شاعری)
ادبی تنظیموں سے وابستگی: معتمد اعلیٰ (طلو ع ادب آزاد کشمیر)، چیئرمین افکار پاکستان، سیکر ٹر ی حلقہ اربا ب ذوق آزاد کشمیر، صدر، رائٹر ز اینڈ انٹلیکچو ل ایسو سی ایشن آ زاد کشمیر زون، صد ر حسن بیا ن آزاد کشمیر، ممبرپہاڑی ادبی سنگت، ممبر کشمیر کلچرل بورڈ
ایوارڈز: کشمیر کلچرل ایوارڈ2005 ء، اسپرنگ فیلڈ کارکردگی ایوارڈ2009 ء، مرسی کور کارکردگی ایوارڈ 2011ء،ایکشن ایڈ ٹیلنٹ ایوارڈ2009 ء ، ٹیلنٹ ایوارڈ 1990 ء گورنمنٹ پائلٹ ہائی سکول باغ، سیف دی فیوچر ایکسیلنس ایوارڈ 2011ء
پتہ: کالج آف ایجوکیشن نزد وویمن یونیورسٹی باغ آزاد کشمیر
رابطہ نمبر: 0344-8800040
ای میل: shahbazgardazi11@gmail.com
نمائندہ شعر:
تری آنکھوں میں یہ جو خواب سا ہے
اسے میں نے کہیں دیکھا ہوا ہے
٭٭٭٭٭٭
ہے کوئی شام کوئی رادھا ہے
ایک منزل ہے ایک جادہ ہے
ہر کوئی ہے کسی کی ذات میں گم
ہر کسی کا وجود آدھا ہے
پھول خوشبو ہیں اک قبیلے سے
اصل میں جو بھی ہے وہ مادّہ ہے
اک اداسی ہے تن بدن میں مرے
عافیت کا سراغ بادہ ہے
ناز و انداز گرد راہ جس کے
اس کا ہر نقش کتنا سادہ ہے
کیا ستم ہے کہ بھولتا ہی نہیں
وہ مری سوچ سے زیادہ ہے
اپنی تصویر سونپ جاؤں گا
ایک دیوار سے یہ وعدہ ہے
٭٭٭٭٭
چراغ کوئی مرے بام پر نہ رکھے گا
میں گھر نہ جاؤں بھی تو مرا کون پوچھے گا
میں ایک وعدہ_ صبح _وصال کا قیدی
اداس شام ترا وقت کیسے گزرے گا
گھوما پھرا کے یہ نظریں وہیں پہ جا ٹھہریں
اب آسماں سے کوئی اور ہے جو اترے گا
میں کیمیاء بھی سمجھتا ہوں دل کی دھڑکن کا
مجھے پتہ ہے یہ دل ہے اور ٹوٹے گا
اس ایک بات پہ اٹکی ہوئی ہے سانس مری
میں مر گیا تو مرے خواب کون دیکھے گا
اسی لیے تو میں شہباز چپ نہیں رہتا
میں چپ رہا تو کوئی اور مجھ میں بولے گا
٭٭٭٭
وہ میرے بعد اک حقیقت ہے
جس طرح یاد اک حقیقت ہے
مجھ پہ تعمیر جو فسانہ ہے
اس کی بنیاد اک حقیقت ہے
میں ہوں ایک خواب کے تصرف میں
جس میں آباد ایک حقیقت ہے
جھوٹ ہے شان خسروی لیکن
کار فرہاد اک حقیقت ہے
جس طرح تو کبھی حقیقت تھی
اب تری یاد اک حقیقت ہے
٭٭٭٭٭٭
اس امتحان سے ہر ایک گزارا جائے گا
بدن لباس ہے جس کو اتارا جائے گا
کسی کا کچھ نہیں جائے گا جانے والے سن
تمہارے جاتے سے سب کچھ ہمارا جائے گا
نکالے جانے کی تکلیف جو نہیں بھولا
وہ شخص باغ عدن میں دوبارہ جائے گا؟
فضائے کوفہ نا میریاں بلاتی ہے
مجھے بھی دشت مصیبت میں مارا جائے گا
وہیں تلک ہے میاں آسرا صداؤں کا
ندی کے ساتھ جہاں تک کنارا جائے گا
میرے خیال کے پندے میں دفن ہے شہباز
وہ جس مقام سے سورج ابھارا جائے گا
٭٭٭٭٭
جب بھی میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی
سب نے مجھ کو چپ رکھنے کی کوشش کی
ٹھیک ہے میں اس کوشش میں ناکام رہا
لیکن میں نے خوش رہنے کی کوشش کی
میں یہ سمجھا اس نے مجھ کو چاہا ہے
اُس نے میرا دل رکھنے کی کوشش کی
جانے میں جو سمجھا ہوں وہ ٹھیک بھی ہے
جانے اس نے کیا کہنے کی کوشش کی
وہ بھی میرے بعد سنا ہے خوب جیا
میں نے بھی زندہ رہنے کی کوشش کی
٭٭٭٭٭
ہماری جیت سے ہوئی تمہاری ہار میاں
سو بڑھ کے روک لیا خود ہی اپنا وار میاں
ندی کے بیج ہے برق و شرر کا ایک مقتل
اور اپنا شیش محل ہے ندی کے پار میاں
ہمارے جیسی کوئی اک مثال ہو تو کہو
کہ ہم کو خود سے زیادہ ہے تم سے پیار میاں
بس ایک دیکھے پہ ہجراں کی آگ میں جھونکا
تمہارے وصل سے ہوتا جو ہم کنار میاں
ہمارے پیچھے چلے آئیں گے یہ کون و مکاں
طلب کے ناقے سے پہلے ہمیں گزار میاں
ہے ایک وہم مسلسل نظام بست و کشاد
یہ کارگاہ عناصر ہے ہم پر بار میاں
اب اپنے کاسہء رخت سفر میں کچھ بھی نہیں
لباس خاک بھی میت سے لے اُتار میاں
٭٭٭٭٭
اک طرب ہی نہیں خزینے میں
خیمہء رنج ہے دفینے میں
عمر بھر یہ نہ کھل سکا مجھ سے
رنج مرنے میں ہے یا چینے میں
حیف مجھ پر کہ تم سے پوچھتا ہوں
پھول کھلتے ہیں کس مہینے میں
میں سمجھتا تھا کچھ نہیں ہوگا
چھید کرتے ہوئے سفینے میں
یار نظروں سے ہو گیا اوجھل
رہ گئی داستان سینے میں
کوفہ و کربلا سے آیا ہوں
دل نہیں لگ رہا مدینے میں
٭٭٭٭٭
وہ خود تو چین سے بیٹھا ہوا ہے
مجھے کیوں در بدر رکھا ہوا ہے
مری آنکھوں میں خوابوں کا سمندر
حد امکان تک پھیلا ہوا ہے
کسی کے ذکر پر اک سانس ہی کیا
رگوں میں خون بھی تھیرا ہوا ہے
تری آنکھوں میں یہ جو خواب سا ہے
اسے میں نے کہیں دیکھا ہوا ہے
میں جیسے رات کا پچھلا پہر ہوں
وہ جیسے چاند سے اترا ہوا ہے
وہ موتی بن کے ٹپکے گا کسی دن
جو قطرہ آنکھ میں تھیرا ہوا ہے
تجھے بھی زخم ہے اپنی انا کا
تو تو بھی آگ سے پیدا ہوا ہے
کبھی یہ دشت پھولوں سے بھرا تھا
ہمارے سامنے صحرا ہوا ہے
٭٭٭٭
مجھے مرنے تلک جینا پڑے گا
تو اب یہ زہر بھی پینا پڑے گا
تمہاری یاد ہے کہ ا رہی ہے
ہر اک گھاؤ کا منہ سینا پڑے گا
مرے صیاد کا اعجاز ہے یہ
لپک کر تیر پہ سینا پڑے گا
زمیں اکتائے کب سے منتظر ہیں
فلک پہ کب کوئی زینا پڑے گا
مجھے گلزار کی ہجرت ڈسے گی
سفر میں جب کہیں دینا پڑے گا
٭٭٭٭٭٭
خود میں رہ کر عمر بتانی پڑتی ہے
کبھی کبھی دنیا سے نبھانی پڑتی ہے
ہنستے چہرے خود سے جدا ہو جاتے ہیں
روتی صورت گھر میں لانی پڑتی ہے
روز بگڑ جاتے ہیں اس خال و خط
روز مجھے تصویر بنانی پڑتی ہے
پہلے پہلے عشق میں ایسا ہوتا ہے
خود سے بھی ہر بات چھپانی پڑتی ہے
یوں تو نہیں میں خوابوں کا دم بھرتا ہوں
اس رستے میں ۔ رات سہانی پڑتی ہے
اندر سے ہر چہرہ اجلا ہوتا ہے
باہر سے بس گرد ہٹانی پڑتی ہے
بعد میں آنکھیں باتیں کرنے لگتی ہیں
پہلے ان میں جوت جگانی پڑتی ہے
لفظوں کو بھی شکلیں دی جا سکتی ہیں
لیکن پہلے عمر کھپانی پڑتی ہے
٭٭٭٭٭
کیمیا گر میں وہ محلول بنا سکتا ہوں
جتنے کانٹے ہیں انہی پھول بنا سکتا ہوں
یاد کرنے سے نہیں ملتی ہے فرصت ورنہ
بھولنے والے تجھے بھول بنا سکتا ہوں
تو جو چاہے تو گھٹا دوں ترے ہجراں کی معیاد
ساعت وصل کو معمول بنا سکتا ہوں
میں جو چاہوں تو تری خاک کو سونا کر دوں
میں جو چاہوں تو تجھے دھول بنا سکتا ہوں
٭٭٭٭٭٭
یہ جو ترکش ہے ڈرانے کے لیے رکھا ہے
ایک ہی تیر چلانے کے لیے رکھا ہے
مجھ کو لگتا ہے کہ گھر میں مجھے گھر والوں نے
ایک مزدور کمانے کے لیے رکھا ہے
جان لے لمس شرر دست ستم گر میرے
میں نے کب ہاتھ ملانے کے لیے رکھا ہے
تم بھی کیا مجھ کو اسی نام سے پہچانتی ہو
میں نے جو نام زمانے کے لیے رکھا ہے
میں پلٹ جانے کی خاطر نہیں آیا شہباز
پاؤں صحرا کو بسانے کے لیے رکھا ہے
٭٭٭٭٭
پہلے پہاڑ اس نے گرائے مری طرف
پھر آسماں سے ہاتھ بڑھائے مری طرف
آنکھوں سے میری درد کے چشمے ابل پڑے
بڑھنے لگے جو شام کے سائے مری طرف
اندر کے آئنوں میں دراڑیں سی پڑ گئیں
سن کر عجیب شور وہ ، ہائے مری طرف
وہ زندگی اگر جو نہیں موت ہی سہی
میرے خدا کوئی تو اب آئے مری طرف
اس شہر خوں فشار میں ایسا کوئی نہیں
بچھڑے مرے جو ڈھونڈ کے لائے مری طرف
٭٭٭٭٭
کسی نے نعمہ سرا کچھ نے فلسفی سمجھا
سو جس کے دل میں جو آیا مجھے وہی سمجھا
مجھے نہ جان سکے آپ تو شکایت کیا
مجھے تو اپنے عزیزوں نے اجنبی سمجھا
غصب خدا کا ، وہ سمجھے نہ ایک دوجے کو
وہ جن کو دیکھنے والوں نے ایک ہی سمجھا
ابھی سے موت کے الجھے ہوئے سروں کو نہ چھیڑ
مغنیہ تو مجھے آ کے زندگی سمجھا
مرے بزرگ تو اب تک یہی سمجھتے ہیں
خدا کو پہلے پہل میں بھی آدمی سمجھا
٭٭٭٭٭
میری آنکھ بھی دیکھے خواب
ترے خوابوں جیسے خواب
نوچ لی جاتی ہیں وہ آنکھیں
جن آنکھوں پہ اترے خواب
اچھی آنکھوں والے لوگ
دیکھ سکے نہ آچھے خواب
بند مُٹھی میں رکھے رکھے
میلے ہو گئے اجلے خواب
اپنے ہاتھوں سے دفنانے
سب نے اپنے اپنے خواب
رفتہ رفتہ بجھ گئیں آنکھیں
اور پھر روشن ہو گئے خواب
پھر یہ آنکھیں کیسی ہوتیں
ان میں گر نہ ہوتے خواب
دونوں ہی مشہور بہت ہیں
تری آنکھیں مرے خواب
٭٭٭٭٭٭٭
اسے میں آنکھ بھر کر دیکھتا ہوں
میں ایسے خواب اکثر دیکھتا ہوں
نظر آتا نہیں ہے جب کہیں وہ
تو پھر میں دل کے اندر دیکھتا ہوں
اسے ظاہر نہیں کرتا کسی پر
اسے خود سے چھپا کر دیکھتا ہوں
مرے اندر کا صحرا جاگتا ہے
میں جب کوئی سمندر دیکھتا ہوں
ہنر آتا ہے اس کو جوڑنے کا
سو اب ٹکڑوں میں بٹ کر دیکھتا ہوں
یہ کیسا وقت مجھ پر آ گیا ہے
ترے ہاتھوں میں پتھر دیکھتا ہوں
وہ مری ذات کے اندر کہیں ہے
جسے شہباز باہر دیکھتا ہوں





