ولدیت: سید نذیر حسین شاہ
تاریخ پیدائش: 21 دسمبر 1975 ء پدر گلشیر خان باغ
روزگار: سوشل سیکٹر
ادبی حلقوں سے وابستگی: سابق سیکرٹری نشر و اشاعت طلوع ادب، معتمد طلوع ادب فلپائن، نائب مدیر سہ ماہی مطلع
خط کتابت کا پتہ: پدر گلشیر، باغ
رابطہ نمبر: 0334 5309885
نمائندہ شعر:
سنا ہے ایک دنیا ہے میرے شعروں کی گرویدہ
سنا ہے چوٹ لگنے سے نکھار آتا ہے لفظو ں میں
٭٭٭٭٭٭
سر بکھیرتی غزل میں نغمگی کا ذائقہ
روح میں اتر گیا ہے شاعری کا ذائقہ
ان سے جا کہ پوچھ لو کہ جن پہ مہربان ہے
ہم سے کاہے پوچھتے ہو زندگی کا ذائقہ
کس نے میری ان کہی کا راز فاش کر دیا
کس کو چبھ رہا تھا میری خامشی کا ذائقہ
یار تیرے طنز کو میں ہنس کے سہہ گیا مگر
کر کرا سا ہو گیا ہے دوستی کا ذائقہ
اس کی خوش مزاجیوں پہ دل کی خوش گمانیاں
دھڑکنوں میں بھر گیا سپردگی کا ذائقہ
٭٭٭٭٭
کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے
مقدر میں کیا کچھ لکھا جا چکا ہے
میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل
مدینے، نجف، کربلا جا چکا ہے
مرے سر پہ اب کوئی سایہ نہیں ہے
مجھے دینے والا دعا جا چکا ہے
ہمیں ظلم کر کے سکوں مل رہا ہے
کہیں دل سے شاید خدا جا چکا ہے
تجھے زعم ہے پارسائی کا لیکن
نگاہوں سے تجھ کو چھوا جا چکا ہے
بڑی مشکلوں سے جسے میں نے کاٹا
وہ دن ہانپتا کانپتا جا چکا ہے
ہمیں مت سنا اور ملکوں کے قصے
تو جیسے وہاں پر بڑا جا چکا ہے
مجھے ضبط کا مشورے دینے والے
تجھے کیا خبر کیا مراجا چکا ہے
٭٭٭
چاند کا سودا طے کرکے پھر تارے بیچنے والے تھے
رات نشے کے عالم میں ہم کیا کیا لوٹنے والے تھے
جیت ہماری ہو ہی جاتی سب کو تھی امید مگر
ٹیم سےباہربیٹھے تھے جو اچھا کھیلنے والے تھے
اس کے سوالوں نے تن من میں ایسی آگ لگائ تھی
جان بچانے کی خاطر دریا میں کودنے والے تھے
اپنے ہاں بھی اعلی ادنی کا پرچار زیادہ تھا
اس کے قبیلے میں بھی اونچی پگڑنے باندھنے والے تھے
شور شرابے سے گھبرا کر ہم نے شہر کو چھوڑا تھا
دشت کی خاموشی سے ڈر کر ہم ہی چیخنے والے تھے
٭٭٭٭٭
کبھی کسی کی زات سے کبھی کسی کی بات سے
ہمیں شکایتیں رہیں تمام کائنات سے
کہیں سمیٹتا کہیں بکھیرتا رہا ہمیں
وہ شخص کھیلتا رہا ہماری نفسیات سے
مجھے لگا زمین پر میں آخری ہوں آدمی
میں بارہا گزر چکا ہوں ایسی کیفیات سے
کہاں ہیں دوست آج کل کسی سے رابطہ نہیں
انہیں خبر کرو نکل چکا ہوں مشکلات سے
٭٭٭٭٭
کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے
مقدر میں کیا کیالکھا جا چکا ہے
میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل
مدینے، نجف، کربلا جا چکا ہے
تجھے زعم ہے پارسائی کا لیکن
نگاہوں سے تجھ کو چھوا جا چکا ہے
بڑی مشکلوں سے جسے میں نے کاٹا
وہ دن ہانپتا کانپتا جا چکا ہے
وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے
کہ چہرے پہ لکھا پڑھا جا چکا ہے
مجھے ضبط کا مشورےدینے والے
تجھے کیا خبر کیا مراجا چکا ہے
٭٭٭٭
اداس منظر یہاں وہاں سے لپٹ رہا ہے
اکیلے پن کے عذاب سے سینہ پھٹ رہا ہے
گہے پرانے پجاریوں کی تلاش میں ہے
جبھی تو سورج غروب ہو کر پلٹ رہا ہے
جو وقت تیری رفاقتوں میں گزارنا تھا
وہ وقت کیسے فضول لوگوں میں کٹ رہا ہے
مرا ارادہ تو بھاگنے کا کہیں نہیں ہے
تُو کس لیے میری بیڑیوں سے لپٹ رہا ہے
میں سبز پتے کا حوصلہ توبڑھا کے آؤں
خزاں کی رت میں ہوا کے آگے جو ڈٹ رہا ہے
مگر تمہاری کمی تو محسوس ہو رہی ہے
سفر کا کیا ہے سفر تو ویسے بھی کٹ رہا ہے
٭٭٭٭٭
رکھیو بچا کے وار ابھی راستے میں ہوں
آتا ہوں میرے یار ابھی راستے میں ہوں
اس نے بلا یا ہی نہیں پر اپنے آپ سے
کہتا ہوں بار بار ابھی راستے میں ہوں
یہ بات سنتے سنتے مرے کان پک گئے
بس تھوڑا سان انتظار ابھی راستے میں ہوں
تم زندگی کی دوڑ میں آگے نکل گئے
میرا کہاں شمار ابھی راستے میں ہوں
میرے قریب آنے سے پہلے یہ سوچ لو
کیا میرا اعتبار ابھی راستے میں ہوں
میں تھک گیا ہوں پاس ہے خوابوں کی پوٹلی
اٹھتا نہیں یہ بار ابھی راستے میں ہوں





